نئی دہلی،08؍اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) دلتوں کے معاملے پر اب بی جے پی نہ صرف اپنے رہنماؤں اور ممبران پارلیمنٹ سے گھرتی جارہی ہے بلکہ اب مخالف بھی مسلسل حملہ بول رہے ہیں۔بھارت بند میں ہوئے تشدد کے پیش نظر دلتوں پر ہو رہے مظالم کو لے کر بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے بی جے پی پر حملہ بولا ہے۔مایاوتی نے کہاہے کہ بھارت بند کارکردگی بڑے سطح پر کامیاب رہا۔اس نے بی جے پی کو ڈرا دیا ہے اور بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں حکام نے دلتوں کے تئیں ظلم شروع کر دیا ہے۔بہت سے دلت اور ان کے خاندانوں کے ارکان کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔
بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ملک کے دلت سماج کے لوگ ایسے ممبران پارلیمنٹ (بی جے پی کے دلت ایم پی)کو معاف کرنے والے نہیں ہیں۔اس سے پہلے بھی بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے بی جے پی حکومت پر دلت سماج کے بہادرنوجوانوں کو ٹارگیٹ کر کے انہیں ہراساں کرنے اور ان کا قتل کرنے کا الزام لگایا تھا۔حکومت کے اس ایکٹ کی مذمت کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ اتر پردیش کی بی جے پی حکومت کو اس کا تسلی بخش جواب دیناچاہیے کہ پولیس انکاؤنٹر کے بعد دلتوں کے خلاف یہ نفرت آمیز نسل پرست قتل کیوں؟ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ کیا دلت ظلم کے معاملے میں اتر پردیش، گجرات ماڈل کا شرمناک پیروی کرے گا؟مایاوتی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایس سی ؍ایس ٹی قانون میں دیے گئے حقوق کی حفاظت کے لئے دلت اور قبائلی معاشرے کے لوگ ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں جس کی تازہ مثال 2اپریل کو دیکھنے کو ملی، لیکن سماج دشمن اور نسل پرست عناصر نے پہلے آتش زنی و تشدد کی سازش کر کے اس ایس سی ؍ایس ٹی قانون بچاو عوامی تحریک کو بدنام کرنے کی سازش کی، پھر سرکاری ننگا ناچ شروع کر کے ہزاروں معصوم لوگوں کو مختلف ریاستوں میں گرفتار کیا جا رہا ہے اور اب نوجوانوں کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا قتل تک ہونے لگا ہے جو قابل مذمت ہے۔